بنگلورو،4؍فروری(ایس او نیوز)ریاست میں خشک سالی کا جائزہ لینے پہنچے بی جے پی قائدین کو خشک سالی کیا ہے معلوم نہیں اور وہ صرف اس کا ناٹک کرنے میں مصروف ہیں ۔ان خیالات کا اِظہار ریاستی وزیر برائے امدادِ باہمی مسٹر بنڈپا قاسم پور نے صحافیوں سے سے بات کرتے ہوئے کیا ۔
انھوں نے کہا کہ خشک سالی کاموں کیلئے مرکزی حکومت ریاست کو جاری کردہ فنڈس نہ دے کر امتیاز برت رہی ہے ۔جبکہ پڑوسی ریاستِ مہاراشٹرا کو4500کروڑ روپیے فنڈ جاری کیا گیا ہے۔اور ہماری ریاستِ کرناٹک کو صرف900کروڑ روپیے جاری کرتے ہوئے سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم نریند رمودی سے مزید فنڈس ریاست کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہر گرام پنچایت سطح پر فِلڈ بنک قائم کرکے اس کے دائرے میں آنے والے قریوں میں جانوروں کیلئے گھاس کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ عہدیداران کو ہدایت دی گئی ہے۔خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ جات میں چارے کی قلت دور کرنے کے مقصد سے حکومت نے ہبلی سطح چارے بنک قائم کیا ہے مگر کسانوں کو وہاں سے چارہ لے جانے کیلئے کافی تکلیف ہورہی ہے۔ اسی وجہ سے گرام پنچایت سطح پر چارہ بنک قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔خشک سالی سے متاثرہ قریوں میں پینے کیلئے پانی اورجانوروں کو چارہ فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں ۔خشک سالی سے نمٹنے کیلئے حکومت کے پاس گرانٹ کی کمی نہیں ہے۔مہاتماگاندھی دیہی روزگار ضمانت اسکیم کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کو مرکزی حکومت کے ذریعے راست طورپر رقم جمع ہوتی ہے ۔ریاستی حکومت اپنی جانب سے رقم جاری کردی ہے لیکن عوام کی شکایت ہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ اساسکیم کے تحت مزدوری کی رقم جمع نہیں ہوئی ہے۔رائچور اور یادگیر کے تالابوں کو صاف کرنے کے کام کا جائزہ لیتے ہوئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر ریاستی وزیر برائے زراعت مسٹر شیو شنکر ریڈی بھی موجود تھے ۔شیو شنکر ریڈی کٹلے ٹکور موضع میں94ہیکڑ علاقہ کے حدود پرتالاب میں پروگرام کا معائنہ کیا۔اس موقع پرکابینی کمیٹی میں شامل وزراء وینکٹ راؤ گوڑا ‘ستیش جارکی ہولی‘ راج شیکھر بی پاٹل‘ پرینک کھرگے ‘ اوررکن اسمبلی اجئے سنگھ کے بشمول دیگر موجود تھے ۔